26

خواتین کے حق مانگنے سے قوم کی ترقی جڑی ہے: اے ایس پی آمنہ

اسلام آباد میں خواتین کے تحفظ کے لیے قائم پولیس کے جینڈر پروٹیکشن یوںٹ کو گذشتہ تین ماہ میں 530 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے تین سو سے زائد خواتین نے ذاتی طور پر پولیس کے سہولت سیںٹر میں آ کر درج کروائیں۔

یونٹ انچارچ  اے ایس پی آمنہ بیگ کے مطابق یہ ایک اچھی علامت ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ خواتین اب پولیس کے پاس اپنی شکایات لانے میں محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔

خواتین کے تحفظ کے لیے پولیس کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی آگاہی کے حوالے سے سینٹر فار ری سرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک ویبینار میں بدھ کو بات کرتے ہوئے اے ایس پی آمنہ بیگ نے کہا کہ معاشرے میں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خواتین، جو آبادی کا نصف حصہ ہیں، کی انصاف تک رسائی بہت محدود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا ریاست یا حکومت کی جانب سے نہیں ہے کیونکہ آئین تو سب کو برابر حقوق دیتا ہے بلکہ اس کی وجوہات ثقافتی اور سماجی ہیں کیونکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں خواتین کے پولیس کے پاس یا پولیس سٹیشن جانے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔

اے ایس پی آمنہ بیگ نے کہا کہ معاشرے میں تاثر ہے کہ پولیس سٹیشنز میں صرف مرد افسر ہوتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہر علاقے میں پولیس سٹشین میں خاتون اہلکار ضرور ہوتی ہے۔ یہ بات بہت سے لوگ جانتے ہی نہیں اور یہی وجہ خواتین کو انصاف تک رسائی سے دور رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’جس معاشرے میں انصاف تک رسائی نہیں ہوتی، اس کی ترقی بھی نہیں ہوتی۔ یہ دونوں آپس میں جڑے ہیں۔ خواتین کا ان کے حق کو مانگنا ضروری ہے کیونکہ اسی سے قوم کی ترقی جڑی ہے۔‘

اسلام آباد میں خواتین کے لیے اقدامات

خواتین کی سہولت کے لیے اسلام آباد پولیس کے اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے ایک ہیلپ لائین کا خیال سامنے آیا جس تک رسائی خواتین شکایت کنندہ کے لیے آسان ہو۔

انہوں نے کہا کہ جیڈر بیسڈ وائلنس یعنی جنس کی بنیاد پر ہونے والے جرائم یا شکایت کی صورت میں ’اسلام آباد میں آپ کہیں سے بھی 8090 پر کال کریں تو خاتون پولیس جواب دے گی، شکایت پر گھر بھی خاتون پولیس ہی آئے گی، تفتیش بھی وہی کریں گی، شکایت بھی درج کریں گی، اگر طبی معائنے کی ضرورے ہو تو بھی خاتون پولیس اہلکار ہی لے کر جائیں گی اور گھر بھی چھوڑیں گی۔‘

’اس طرح خواتین کی گھریلو تشدد یا ہراسانی کی کسی بھی شکایت کے نتیجے میں ہر قدم پر ان کے ساتھ خواتین پولیس اہلکار ہی ہوں گی جس سے وہ غیر محفوظ بھی محسوس نہیں کریں گی۔‘

انہوں نے بتایا کہ گھریلو تشدد کے واقعات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خواتین یا تو شکایت ہی نہیں کرتیں اور اگر کال کرتی بھی ہیں تو دوسری جانب مرد افسر کی آواز سن کر یا مرد افسر کے گھر آنے پر شکایت آگے بڑھانے سے منع کر دیتی ہیں کیونکہ وہ خود کو پوری طرح محفوظ تصور نہیں کرتیں۔

اے ایس پی آمنہ کے مطابق اس کے بعد اسلام آباد پولیس نے ایف سکس مرکز میں ایسی شکایات کے لیے ایک سہولت مرکز بھی قائم کیا، جو تھانہ نہیں بلکہ ایک عام عمارت ہے، اس سے خواتین کی پولیس کے پاس آنے میں ہچکچاہٹ بھی کم ہوئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ جینڈر پروٹیکشن یونٹ کے مئی میں قیام کے بعد سے اب تک اسے 530 شکایات موصول ہو چکی ہیں جن میں تین سو سے زائد ایسی تھیں جو خواتین نے فسلیٹیشن سیںٹر میں آ کر ذاتی طور پر کیں۔

ان کے مطابق اس مرکز میں خواتین کے لیے علیحدہ رپورٹنگ روم، واش روم اور بچوں کے لیے پلے ایریا جیسی سہولیات بھی ہیں تاکہ وہ کمفورٹیبل محسوس کر سکیں۔

انہوں نے یو این ویمن کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین میں سے صرف دو فیصد ہی اس کی رپورٹ درج کرواتی ہیں جو ایک بہت کم تعداد ہے۔

پولیس میں مزید خاتون اہلکاروں کی بھرتیوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کی بالکل ضرورت ہے کیونکہ اس وقت پولیس فورس میں صرف 1.6 فیصد خواتین ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس سٹیشنز میں زیادہ خواتین کو دیکھ کر ہی پولیس کے پاس جانے کی خواتین اور معاشرے کی ہچکچاہٹ دور ہوگی۔

ان سے سوال کیا گیا کہ آیا پولیس میں جینڈر سینسی ٹیویٹی یعنی جنس کے اعت سے حساس طرز عمل کی ٹریننگ کروائی جا رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ جینڈر پروٹکشن یونٹ کی اہلکاروں کی ایک ماہ سے زائد ٹریننگ جاری رہی جبکہ دیگر پولیس سٹیشنوں میں مرد اہلکاروں کی بھی وقفے وقفے سے ٹریننگ جاری ہے جس میں انہیں کمیونیکشن، جینڈر سینسی ٹویٹی اور متاثرہ افراد سے حساسیت سے پیش آنے کے حوالے سے سکھایا جاتا ہے۔

اے ایس پی آمنہ نے شہریوں پر زور دیا کہ فوجدری انصاف کے نظام میں رپورٹنگ سب سے اہم ہے، وقت پر پولیس کو دی گئی اطلاعات یا شکایات بہت سی جانیں بچا سکتی ہیں۔

اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکثر ایسے کیسز جن میں مرد نے اپنی اہلیہ یا کسی پارٹنر کا قتل کیا ہو ان میں ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے پولیس کے پوچھنے کے بعد ہی گھر والے بتاتے ہیں کہ ملزم پہلے بھی گھریلو تشدد کرتا رہا ہے۔ اگر اس سے پہلے پولیس کو شکایت ملی چکی ہوتی تو شاید ملزم کو انجام کا ڈر ہوتا اور نوبت قتل تک نہ پہنچتی۔

انہوں نے کہا: ’ثقاتفی یا سماجی بندشوں کے سامنے نہ جھکیں۔ جہاں آپ کے ساتھ یا کسی کے ساتھ کچھ غلط ہو اسے رپورت ضرور کریں۔ وہ صرف آپ کو نہیں بلکہ اور کسی کو بھی بچا سکتا ہے۔‘

خواتین میں اپنے حقوق اور ان کو حاصل کرنے کی آگاہی کی مزید کوششوں پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’پولیس آپ کی مدد کے لیے موجود ہے، پولیس آپ کی دوست ہے۔‘





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں