31

’لگتا تھا طارق اسمٰعیل ساگر واقعی جاسوس کمانڈو ہیں‘

بچپن میں جب کوئی پوچھتا بیٹا بڑے ہو کر کیا بنو گے تو فوراً سے یہی جواب دیتا کہ فوجی بنوں گا۔ پھر کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ کمانڈو بھی کوئی چیز ہوتا ہے اور فوجی سے شاید زیادہ ایڈونچرس ہوتا ہے۔

زیادہ تر بچوں کی طرح میرا بھی فوج میں جانے کا ارادہ تھا اور ان دنوں پی ٹی وی کے مشہور زمانہ ڈرامے سنہرے دن، الفا براوو چارلی نے ذہن میں ایسی جڑیں پکڑی تھیں کہ ڈاکٹر اور انجینئر کے پیشے، فوج کی نوکری کے سامنے بہت واجبی سے لگتے تھے۔

کتابیں پڑھنے کا شوق بھی بچپن سے تھا۔ محلے کی لائبریری میں موجود جاسوسی اور سسپینس رسالوں میں بہت اچھی کہانیاں چھپتی تھیں لیکن ایک باقاعدہ جاسوس کمانڈو کی کہانی کیا ہوتی ہے مجھے معلوم نہیں تھا۔ 

اسی دوران ایک کتاب ہاتھ لگ گئی جس کا نام ہی ’کمانڈو‘ تھا۔ مصنف کا نام طارق اسماعیل ساگر تھا۔ کتاب جو کہ دراصل ناول تھا، ایک ہی نشست میں ختم کر ڈالا لیکن ساتھ ہی میں طارق صاحب کے جاسوسی تخیل کا دلدادہ ہو چکا تھا۔

اردو فکشن لکھنے والوں میں بلاشبہ طارق اسماعیل ساگر کے نام کی ایک الگ پہچان ہے۔ 16 اکتوبر 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور آج 68 سال کی عمر میں اس موذی وبا کرونا جس کی وجہ سے عصر حاضر کی کتنی ہی شخصیات داغ مفارقت دے گئیں، وفات پا گئے۔

ساگر 60 سے زائد کتابوں کے مصنف تھے جن میں زیادہ تر کتابیں حالات حاضرہ اور محب الوطنی پر مبنی ناول ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا کچھ تحقیقی کام بھی کتابوں کی شکل میں محفوظ ہے۔ ان کے کچھ مشہور ناول یہ ہیں؛

کمانڈو

میں ایک جاسوس تھا

وطن کی مٹی گواہ رہنا

جنم جلی

ٹارگٹ کہوٹہ

کریک ڈاؤن

لہو کا سفر

دھویں کی دیوار

 تعلیم و تربیت اور آنکھ مچولی سے لے کر اردو کی ضخیم کتابیں پڑھنے کے درمیان تقریباً زیادہ تر نوجوانوں کی طرح میں نے بھی نسیم حجازی اور طارق اسماعیل ساگر صاحب کو ہی پڑھا ہے۔

ان کے ناول پڑھ کر دل کرتا تھا کہ بندہ آج ہی آج سلیکٹ ہو کر کمانڈو بن جائے اور جاسوسی کرنے ہمسایہ ملک پہنچ جائے۔ ہر کہانی اور کتاب کے پیچھے اس کو لکھنے کا ایک محرک ہوتا ہے۔ طارق صاحب کی کہانیوں میں وطن سے محبت کا وہ محرک بدرجہ اتم موجود ہے۔

ان کی تحقیقی کتابوں ’اسامہ اور دجالی ہتھکنڈے‘ کے علاوہ ’داعش‘ میں بھی وطن سے محبت کا بیان اور ’دشمنان مملکت‘ کے راز افشا کرنے کا بیان ہی ملتا ہے۔ ساگر صاحب کی تحاریر میں وہ ساحرانہ اثر موجود ہے جو پاکستانی پڑھنے والے کے خون کو وطن کی محبت اور اس کی سلامتی کے لیے کوئی بھی خطرہ مول لے لینے کی حد تک گرما دیتا ہے۔

طارق اسماعیل ساگر پاکستان میں ہم عصر اردو افسانہ نگار کی حیثیت سے الیکٹرانک اور پیپر میڈیا دونوں میں یکساں مقبول تھے۔ ساٹھ سے زائد کتابوں کا اثاثہ رکھنے والی شخصیت کے پاس بظاہر دنیا بھر کی انٹیلی جنس سروسز کے نیٹ ورک پر معلومات تھیں۔ سوچیے کہ وہ کس طرح ریسرچ کرتے ہوں گے۔

دنیا بھر کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے بارے میں ہر وقت بے حساب لکھنا اور ان کو موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں سیٹ کرنا آسان کام نہیں۔ ان کا شمار جنوبی ایشیا کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ناول نگاروں میں ہوتا تھا۔ ان کی کتابیں ہاٹ کیک کی طرح فروخت ہوتیں اور دنیا بھر میں پاکستانی ان کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی بہت سی کتابیں انگریزی میں بھی ترجمہ ہو چکی ہیں، ان کی تحریروں پر سینکڑوں مقالے لکھے جا چکے ہیں۔

کہانی کی بنت اور پھیلاؤ ایسا ہوتا ہے کہ انسان ساتھ ساتھ بہتا چلا جاتا ہے اور پھر واقعات کے اندر جذبات کی ایسی آمیزش ہوتی ہے جیسے کردار کے ساتھ ساتھ قاری بھی انھیں حالات سے دوچار ہے۔

ابھی میں ایک دوست سے ان کے بارے میں ہی بات کر رہا تھا تو وہ کہنے لگا ’یقیناً کسی چیز کے بارے میں لکھنے سے پہلے ریسرچ ضرور کی جاتی ہے مگر ایسا لگتا تھا کہ طارق صاحب واقعی میں ایک جاسوس کمانڈو کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ پٹھان کوٹ پر حملہ ہو، دشمن کے علاقے میں ساری رات ایک گڑھے میں موٹے موٹے جنگلی مچھروں کے ساتھ رات گزارنے کا بیان ہو یا پھر سات آٹھ مشاق جنگجوؤں سے اکیلے بھڑ جانے کا قصہ۔ ان کے ناول آپ کو اپنی جگہ چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔‘

افسوس کہ یہ دلچسپ ناول اور حالاتِ حاضرہ کے بیانات پر مبنی باتیں اب سننے کو نہیں ملیں گی۔ طارق اسماعیل ساگر صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ طارق صاحب کے انتقال سے اردو فکشن کا ایک سنہری باب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ حق مغفرت کرے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں